Wednesday, August 5

سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف: دہشت گردی کے خلاف عالمی حکمتِ عملی میں ریاستی دہشت گردی کا بھی مؤثر تدارک ناگزیر ہے

نیویارک، 05 اگست(کامران راجہ): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو دہشت گردی سے لاحق خطرات کے موضوع پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جامع اور مؤثر عالمی ردِعمل کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کا بلاامتیاز تدارک کیا جائے، جن میں غیر ملکی قبضے کے حالات میں سامنے آنے والی ریاستی دہشت گردی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ اگست ایک افسوسناک دن کی یاد دلاتا ہے، جب سات برس قبل بھارت نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات مسلط کیے، جن کے نتیجے میں کشمیری عوام کو جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی آزادیوں پر مزید قدغنوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ناانصافی، بے توقیری، ادھورے وعدوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ضمانت شدہ اپنے حقِ خودارادیت سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست دو ہزار انیس کے اقدامات کے بعد کشمیری عوام پر ظلم و جبر کی ایک نئی لہر مسلط کی گئی، جو ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی کا تسلسل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے ایسے واضح مظاہر کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، خواہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہوں یا غیر ملکی قبضے کی کسی بھی صورتِ حال میں۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو غیر ملکی قبضے کے خلاف عوام کی جائز جدوجہد اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو دبانے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ دوہرے معیار اور امتیازی رویوں سے گریز کرتے ہوئے جامع اور مربوط عالمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا مؤثر تدارک اور ایسے سیاسی ایجنڈوں کی روک تھام ناگزیر ہے جو حالات کا استحصال کر کے دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے دہشت گرد خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور مالی وسائل تک رسائی سے روکنا عالمی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا بنیادی تقاضا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سرحدوں کی پابند نہیں، اس کا کوئی مذہب نہیں اور یہ پوری انسانیت کے لیے یکساں خطرہ ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام اور انسدادِ دہشت گردی کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام ایسے دہشت گرد گروہوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے جو عالمی امن و سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔
اگر آپ چاہیں تو اسے وزارتِ خارجہِ پاکستان کے سرکاری اندازِ تحریر کے مطابق مزید سفارتی اور رسمی زبان میں بھی مرتب کیا جا سکتا ہے۔