Friday, September 11

روس نے پاکستان، بھارت آبی تنازع حل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کردیا

روس نے پاکستان، بھارت آبی تنازع حل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کردیا

ماسکو، 10 ستمبر 2026 (نوشین): روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب آبی تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ماسکو تنظیم کے مقاصد کے حصول کے لیے اسلام آباد کے ساتھ مؤثر اور نتیجہ خیز تعاون کے لیے تیار ہے۔ روس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے سے متعلق تنازع کو باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اس میں دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یہ بات روسی جمہوریہ کومی کے دارالحکومت سکیوتیفکار میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ بریفنگ میں کومی ریپبلک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ ماسکو میں موجود صحافیوں نے آن لائن شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران ماریا زاخارووا نے اہم علاقائی و بین الاقوامی امور، روسی خارجہ پالیسی، دوطرفہ تعلقات اور مختلف عالمی تنازعات پر ماسکو کے مؤقف کی وضاحت کی اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب آبی مسئلے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش رکھتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ ایسے تنازعات کو باہمی احترام پر مبنی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا اہم ہے، جس میں دونوں ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان کی جانب سے 2026-2027 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالنے کے حوالے سے ماریا زاخارووا نے کہا کہ پاکستان نے تنظیم کی سربراہی سنبھال لی ہے اور اسلام آباد میں ایس سی او کی آئندہ سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اہم اور ذمہ دارانہ ذمہ داری شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر کثیرالجہتی تعاون کو مزید ترقی دینے اور گہرا کرنے اور اس کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنانے کے لیے ہوتی ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سربراہی کے دوران ایس سی او کی بنیادی دستاویزات پر عملدرآمد میں تسلسل کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جن میں تنظیم کی 2035 تک کی ترقیاتی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ ماریا زاخارووا نے کہا کہ تنظیم کی سربراہی کرنے والا ہر ملک بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے اور ایس سی او کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے عمل میں اپنی ترجیحات شامل کرتا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان 2026-2027 کے دوران سیاسی، سلامتی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی شعبوں میں مربوط اقدامات کے حوالے سے اپنا وژن پیش کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ ایس سی او خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کی نشاندہی کرے گا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یکم ستمبر کو بشکیک میں منعقدہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں نے پاکستان کو اس کی سربراہی کامیابی سے انجام دینے میں تعاون اور مدد فراہم کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس شنگھائی تعاون تنظیم کی پاکستان کی سربراہی کے دوران مؤثر اور نتیجہ خیز مشترکہ کام کے لیے تیار ہے۔ ماریا زاخارووا نے پاکستان کے لیے کامیاب سربراہی کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔