Thursday, August 20

روس اور یوکرین کے درمیان 103 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

 

Russia and Ukraine Exchange 103 Prisoners of War Each

کیف، 19 اگست 2026 (غفران): روس اور یوکرین نے بدھ کے روز ایک دوسرے کے 103، 103 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا، دونوں جانب کے حکام نے تصدیق کر دی۔ یوکرین کی انٹیلی جنس کے مطابق رواں ماہ کے اختتام سے قبل ایک اور قیدیوں کا تبادلہ متوقع ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان 2022 میں روسی حملے کے آغاز کے بعد سے جنگی قیدیوں کے باقاعدگی سے تبادلے ہوتے رہے ہیں، تاہم دونوں ممالک ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر اب بھی ایک دوسرے سے کافی دور ہیں۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ تازہ ترین تبادلے میں وطن واپس آنے والے یوکرینی شہریوں میں مسلح افواج، ریاستی بارڈر گارڈ سروس اور نیشنل گارڈ کے اہلکار شامل ہیں۔ روسی جانب سے انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے جنگی قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کی۔ 29 سالہ یوکرینی شہری دمترو، جو تین سال تک قید میں رہے، نے وطن واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔ انہوں نے قید میں موجود دیگر افراد کے اہل خانہ سے اپیل کی کہ وہ امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

ایک اور یوکرینی فوجی، 43 سالہ انتون تیموفینکو، جو 28 ماہ تک قید میں رہے، نے دورانِ حراست انتہائی محدود معلومات ملنے کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق رشتہ داروں کے خطوط ہی رابطے کے چند ذرائع میں شامل تھے۔ یوکرین کے ملٹری انٹیلی جنس چیف اولیہ ایوانیشینکو نے کہا کہ رواں ماہ کے اختتام سے قبل ایک اور جنگی قیدیوں کے تبادلے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ تبادلے میں طویل عرصے سے زیر حراست یوکرینی دفاعی اہلکاروں کی واپسی متوقع ہے، جن میں وہ اہلکار بھی شامل ہو سکتے ہیں جنہوں نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں روسی افواج کے محاصرے کا سامنا کرنے والے بندرگاہی شہر ماریوپول کے دفاع میں حصہ لیا تھا۔