
قاہرہ، 7 اکتوبر 2026 (غفران): یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے بدھ کے روز سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب خطے میں جاری تازہ تنازع میں مزید گہرائی تک شامل ہوتا جا رہا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ گروپ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دارالحکومت کے شمال میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کا دعویٰ کیا۔ حملے کے باعث ہوائی اڈے پر پروازوں کا سلسلہ مختصر وقت کے لیے متاثر ہوا۔ حوثیوں نے ابہا ایئرپورٹ، خمیس مشیط میں ایک فضائی اڈے اور نجران و عسیر میں فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کو گزشتہ چند روز کے دوران تیل اور فوجی تنصیبات پر متعدد حملوں کا سامنا رہا ہے، جس کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد اور اس کے اتحادی یمنی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑے زمینی اور فضائی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے قریب اہم مقامات پر لڑائی میں شدت آ گئی ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ حوثیوں نے یمن کے شہر عدن کے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کی ذمہ داری کا بھی دعویٰ کیا ہے، جبکہ مقامی حکام کے مطابق دو میزائل ہوائی اڈے کے قریب گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تازہ کشیدگی نے چار سالہ جنگ بندی کے بعد یمن کی خانہ جنگی کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث انسانی بحران بھی سنگین ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ہیضے اور غذائی قلت کے کیسز میں اضافہ اور طبی سامان کی قلت بھی سامنے آ رہی ہے۔