
برسبین، 14 اکتوبر 2026 (غفران): آسٹریلیا کی اسٹار بلے باز اور وکٹ کیپر بیتھ مونی نے 2029 ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ اور 2032 میں برسبین میں ہونے والے ممکنہ اولمپکس میں شرکت کو اپنا ہدف بنا لیا ہے، جبکہ وہ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سنچری مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ 32 سالہ بیتھ مونی بدھ کو ایلن بارڈر فیلڈ میں بنگلہ دیش کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں یہ سنگ میل عبور کرسکتی ہیں۔ آسٹریلیا پہلے ہی سیریز کے ابتدائی دو میچ جیت کر 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرچکا ہے۔ بیتھ مونی نے ون ڈے کرکٹ میں 49.81 کی اوسط سے 3,288 رنز بنائے ہیں، جن میں چھ سنچریاں بھی شامل ہیں۔ وہ آسٹریلیا کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑیوں کی فہرست میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ 2025 کے ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں آسٹریلیا کی شکست اب بھی مونی کے لیے مایوسی کا باعث ہے، اور وہ 2029 میں ٹیم کو دوبارہ عالمی چیمپئن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والی شکست نے ٹیم کو شدید مایوس کیا تھا، تاہم 50 اوورز کا ورلڈ کپ جیتنا بھی ان کی اہم خواہش ہے۔ آسٹریلیا اس کے بعد ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہا، جس میں مونی نے سات اننگز میں 238 رنز بنائے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف فائنل میں وہ 64 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہی تھیں۔ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والی مونی اب 50 اوورز کے عالمی ٹائٹل کو بھی اپنے اعزازات میں شامل کرنا چاہتی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنی کارکردگی برقرار رکھتے ہوئے 2029 کے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم میں جگہ حاصل کریں۔ مونی کا خیال ہے کہ اولمپکس میں شرکت کا موقع کھلاڑیوں کو اپنے بین الاقوامی کیریئر کو مزید طویل کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ کرکٹ لاس اینجلس 2028 اولمپکس میں شامل ہوگی، جبکہ 2032 کے برسبین اولمپکس میں بھی اس کی شمولیت متوقع ہے۔ اگر مونی اس وقت تک بین الاقوامی کرکٹ میں برقرار رہیں تو انہیں 38 سال کی عمر میں اپنے ملک میں اولمپکس کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ برسبین اولمپکس ابھی کئی سال دور ہیں، تاہم فی الحال ان کی توجہ آسٹریلیا کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالنے اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے پر مرکوز ہے۔ مونی نے آسٹریلیا کی نوجوان اوپنرز جارجیا وول اور فیبی لیچ فیلڈ کے جارحانہ انداز کو بھی سراہا، جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میں 162 رنز کی شراکت قائم کی، جس کی بدولت آسٹریلیا نے نو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 50 اوورز کی کرکٹ جدید انداز اختیار کررہی ہے اور نوجوان بلے باز جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے حریف ٹیموں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ آسٹریلیا اب نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ پر تین ٹی 20 بین الاقوامی میچوں کی سیریز کھیلے گا، جس کے بعد ٹیم آئندہ سال کے آغاز میں شیڈول پہلی ویمنز چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں پر توجہ دے گی۔