
لندن، 13 اکتوبر 2026 (غفران): برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش ایران میں تیار کی گئی اور تقریباً یقینی طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اس کی ہدایت کی، جس سے لندن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے برنہم نے کہا کہ برطانوی حکومت اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کرے گی اور ایران کی جانب سے مبینہ طور پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے استعمال کے خلاف مزید اقدامات کرے گی، جن میں ان نیٹ ورکس کے مالی ذرائع کو نشانہ بنانا اور اضافی پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فیئر فورڈ ایئربیس ماضی میں ایران پر حملوں کے لیے امریکی بمبار طیاروں کے استعمال میں رہی ہے۔ یہ اڈہ اس وقت سکیورٹی کارروائیوں کا مرکز بن گیا جب 27 ستمبر کی صبح وہاں کے قریب پانچ برطانوی مردوں کو دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مبینہ منصوبے میں ڈرون حملے کا امکان شامل تھا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران سے منسلک خطرے کے باعث ایئربیس سے بمبار طیارے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم، مبینہ سازش سے متعلق تفصیلات تاحال محدود ہیں۔ گرفتار کیے گئے پانچوں افراد کو بعد ازاں سخت شرائط کے تحت پولیس ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ گرفتار ہونے والے دو دیگر افراد، جن میں ایک برطانوی ایرانی شہری بھی شامل تھا، کو بھی رہا کر دیا گیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق ضبط کی گئی وینز سے پٹرول ملا، تاہم کوئی قابلِ استعمال دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ ایران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکا، کینیڈا، فرانس اور جرمنی سمیت تقریباً 30 ممالک کی وزارتِ خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کی جانب سے مبینہ پرتشدد حملوں، آتش زنی، تخریب کاری، سائبر حملوں اور دیگر دشمنانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے خفیہ نیٹ ورکس اور پراکسی عناصر کے ذریعے ایران کی سرحدوں سے باہر کارروائیاں کرنے کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ لندن کئی برسوں سے تہران پر برطانیہ میں سازشوں اور قتل کی کوششوں میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم ایران ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا ہے۔ برطانوی حکام کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں مقیم افراد کو قتل یا اغوا کرنے کی ایرانی حمایت یافتہ 20 قابلِ اعتبار دھمکیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ جولائی میں برطانیہ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور اس سے منسلک گروپ حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ (ایچ اے وائی آئی) کی حمایت پر پابندی عائد کرنے کے لیے نئے اقدامات کیے تھے۔ مذکورہ گروپ نے رواں سال کے آغاز میں یہودی اور اسرائیلی برادریوں اور فارسی زبان کے ذرائع ابلاغ سے منسلک مقامات پر سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا، جبکہ حکومت نے دو ایرانی شہریوں روح اللہ بازغندی اور شہریام علی رضا تمرزادہ جکی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ برطانوی حکام نے بازغندی کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے انسدادِ جاسوسی آپریشنز کا سربراہ قرار دیا، جبکہ تمرزادہ جکی پر پہلے سے پابندیوں کی زد میں موجود زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کی معاونت کا الزام ہے، جس پر ایرانی حکومت کے مخالفین کے خلاف متعدد سازشوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔