Saturday, August 29

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین حامی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کی کوششوں پر بڑا دھچکا

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین حامی کارکنوں کو ملک بدر کرنے کی کوششوں پر بڑا دھچکا

سان فرانسسکو، 29 اگست 2026 — نیوز ڈیسک: امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطین کے حامی غیر ملکی طلبہ اور کارکنوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں ملک بدر کرنے کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ کیلیفورنیا کے جج نول وائز نے قرار دیا کہ محض سیاسی مؤقف، خاص طور پر فلسطین کے حق میں یا اسرائیل پر تنقید کرنے والی آزادِ اظہارِ رائے کی بنیاد پر ویزا منسوخ کرنا اور ملک بدری کی کارروائی شروع کرنا امریکی آئین کی پہلی اور پانچویں ترامیم سے متصادم ہے۔ یہ مقدمہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ اخبار دی اسٹینفورڈ ڈیلی نے دائر کیا تھا۔ اخبار کا مؤقف تھا کہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث غیر ملکی طلبہ نے فلسطین سے متعلق احتجاج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر رپورٹنگ سے گریز شروع کردیا تھا۔ جج نے خبردار کیا کہ حکومتی دباؤ لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار سے روکنے کا سبب بن سکتا ہے اور یہ عمل امریکی آئینی اقدار کے خلاف ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ سال بوسٹن کی ایک وفاقی عدالت کے اسی نوعیت کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔