دبئی، 24 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): فلسطینی نژاد اماراتی سفارت کار لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی نئی سیکریٹری جنرل بننے کی دوڑ میں ایک اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے اصلاحات پر مبنی ایجنڈے کے ساتھ عالمی امن کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بدھ کے روز باضابطہ نامزدگی کے بعد انہیں خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جس سے اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے ان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ اگر وہ منتخب ہو گئیں تو اقوام متحدہ کی پہلی خاتون سیکریٹری جنرل اور اس عہدے پر فائز ہونے والی دوسری عرب شخصیت ہوں گی، جو متحدہ عرب امارات کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔ اپنی انتخابی مہم کی ویڈیو میں لانا نسیبہ نے امن کے لیے کوششوں میں تیزی لانے اور انسانی حقوق کے دفاع کا عہد کیا ہے۔ اماراتی ماہرِ سیاسیات عبدالخالق عبداللہ نے انہیں وسیع تجربے اور مضبوط پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل سفارت کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اماراتی سفارت کاری کی بہترین خصوصیات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لانا نسیبہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی مہم پر توجہ دینے کی غرض سے اماراتی وزارت خارجہ میں وزیر مملکت اور اقوام متحدہ و یورپی یونین میں اپنے سفارتی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ رہیں اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ امریکا کی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملاڈینوف نے ان کی سفارتی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی وہ اپنی کوششیں جاری رکھتی ہیں اور دوسروں پر غیر ضروری دباؤ ڈالے بغیر اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتی ہیں۔ لانا نسیبہ کا تعلق ایک ممتاز فلسطینی سیاسی خاندان سے ہے، جس کے افراد 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد بے گھر ہوئے تھے۔ ان کا خاندان روایتی طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں واقع چرچ آف دی ہولی سیپلکر کی چابیوں کا محافظ رہا ہے۔ ان کے دادا 1950 کی دہائی میں اردن کے وزیر دفاع تھے اور اسرائیلیوں سے رابطہ قائم کرنے والے ابتدائی فلسطینی شخصیات میں شامل تھے۔ ان کے والد زکی نسیبہ متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زاید بن سلطان النہیان کے مشیر اور مترجم رہ چکے ہیں، جبکہ اس وقت اماراتی صدر کے ثقافتی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ لانا نسیبہ کے دو بیٹے ہیں اور انہوں نے دو ماسٹرز ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں، جن میں لندن یونیورسٹی سے اسرائیلی اور یہودی تارکین وطن کے مطالعے میں حاصل کردہ ڈگری بھی شامل ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے مقابلہ بدستور سخت ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والی تازہ غیر رسمی رائے شماری میں تمام امیدواروں کو کم از کم دو ویٹو کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انتخابی عمل میں موجود مشکلات واضح ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے پانچ کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی ایسے امیدوار کی نامزدگی روک سکتے ہیں جسے وہ قابل قبول نہ سمجھتے ہوں۔ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سا امیدوار سلامتی کونسل کے ارکان کی مطلوبہ حمایت حاصل کرکے باضابطہ تقرری کے مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
