
اسلام آباد 05 مئ 2026 (کامران راجہ): دنیا کے چار براعظموں سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم اور محققین منگل کے روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے فیصل مسجد کیمپس میں جمع ہوئے تاکہ عصرِ حاضر کی علمی دنیا کے اہم موضوعات پر غور و خوض کیا جاے جن میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی فکر اور تعلیمی نظام میں نو آبادیاتی نظریات کی موجودگی جیسے نکات شامل ہیں ۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبۂ انگریزی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے اشتراک سے منعقد دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس “کالیبن بولتا ہے: عہدِ ما بعد نوآبادیت اور ٹیکنالوجی میں مقامی فکر کی بازیافت” میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، عمان اور پاکستان بھر سے محققین، اساتذہ اور دانشور شریک ہوئے۔ اس دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں چار کلیدی خطابات، آٹھ متوازی علمی نشستیں اور دو پینل مباحثے شامل ہیں۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، چیئرپرسن پاکستان اکادمی ادبیات، نے اپنے خطاب میں کہا کہ اظہار کی نفی دراصل وجود کی نفی ہے۔ انہوں نے شیکسپیئر کے ناول کے مشہور کردار کالیبن کی تبدیلی کو اس لمحے سے جوڑا جب اس نے بولنے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا یہ محض ابلاغ نہیں بلکہ اپنے وجود کا اعلان تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوآبادیاتی جبر کی جگہ اب ٹیکنالوجی نے لے لی ہے جہاں عالمی بیانیے الگورتھم کی گرفت میں ہیں، اور سکالرز کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی جبر کی اصطلاحات سے ہٹا کر اپنی فکری قوت پر مرکوز کریں۔
یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا تحریری پیغام ڈاکٹر محمد شیراز دستی نے پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے جامعہ کو مختلف ثقافتوں اور علمی روایات کے سنگم کا مقام قرار دیا اور زور دیا کہ جامعہ ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں علم ان آوازوں کو حاشیے پر دھکیلے بغیر تخلیق ہو جو مرکزی دھارے سے باہر ہیں۔ فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ جنجوعہ کی طرف سے ڈاکٹر حمیرہ اشفاق نے ان کا خطاب پڑھا جس میں کہا گیا کہ علم کو صرف منتقل کرنا کافی نہیں بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینا ضروری ہے۔
کانفرنس کی روحِ رواں اور کنوینر ڈاکٹر اسما منصور کا افتتاحی خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس کا خیال یقین سے نہیں بلکہ ایک بے چینی سے پیدا ہوا جس میں پاکستانی علمی ماحول میں ما بعد نوآبادیاتی فکر کو ایک “فکری قید خانے” میں محبوس دیکھنا شامل ہے جہاں یہ تصور تحقیقی مقالوں اور سیمیناروں میں گردش تو کرتا ہے مگر عملی زندگی میں کبھی نہیں اترتا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بارے میں کہا کہ یہ آلات غیرجانبدار نہیں ،یہ سرمایہ دارانہ نظام اور علمی استحصال کے ساتھ گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
شریک کنوینر ڈاکٹر صائمہ اسلم نے اپنا خطاب طلبہ سے مخاطب ہو کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف بولنا کافی نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو سنا جاتا ہے؟ جامعہ علم کی ترسیل کی جگہ نہیں بلکہ وہ مقام ہے جہاں نئی آوازیں جنم لیتی ہیں۔ اپنی آواز تلاش کرنا اہم ہے، انہوں نے کہا، لیکن اسے ذمہ داری سے استعمال کرنا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
کلیدی خطابات میں عمان کے بیان کالج سے ڈاکٹر سیان ڈے نے کلیدی خطبہ دیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر عروسہ کنول نے اسلامی تخیل اور ما بعد نوآبادیاتی فکر کے تقاطع پر گفتگو کی۔
کانفرنس کے دونوں دن متوازی نشستوں میں مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کی نوآبادیاتی نوعیت، مقامی زبانوں کے تحفظ، موسمیاتی بیانیوں، اردو جمالیات اور ڈیٹا کی خودمختاری جیسے موضوعات پر تحقیق پیش کی جا رہی ہے۔کانفرنس آج بروز جمعرات اختتام پذیر ہوگی۔