
اسلام آباد، 22 ستمبر، 2026 (نوشین): پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے وعدے پورے کرنے اور جنگ بندی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ مشترکہ بیان پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے غزہ میں فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی پر بھی زور دیا۔ آٹھوں ممالک نے غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کی جانب سے پورے علاقے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے آغاز پر بھی اتفاق کیا۔ مشترکہ بیان میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور کسی بھی قسم کی علاقائی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے غیر قانونی بستیوں کی توسیع، فلسطینی اراضی پر قبضے، گھروں کی مسماری اور آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے اور اسے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے سے متحد رہنا چاہیے۔ وزرائے خارجہ نے مشرقی یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے پر مبنی دو ریاستی حل کو تنازع کے حل کے لیے ضروری قرار دیا۔ آٹھوں ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنازع کے حل میں امریکا کے فعال کردار پر زور دیا اور امریکا، بورڈ آف پیس اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔