Wednesday, August 5

آر-4 گروپ کے وزرائے خارجہ کا فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں استحکام کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ

اسلام آباد، 5 اگست 2026 (کامران راجہ): مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل آر-4 گروپ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس 5 اگست کو اردن کے دارالحکومت عمان میں منعقد ہوا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال، فلسطین کے مسئلے اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت، کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 4 جون 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ، جامع اور پائیدار حل مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔

اجلاس میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی استحکام کے فروغ، مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور امن کے قیام کے لیے باہمی مشاورت، قریبی رابطوں اور مشترکہ سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع ہی تنازعات کے حل کا مؤثر راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل مکالمہ اور سفارتی کوششیں نہ صرف مزید کشیدگی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ خطے میں امن، تعاون اور استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ اجلاس کے اختتام پر آر-4 گروپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چاروں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے امن، استحکام، باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں مزید مؤثر بنائیں گے۔