
آذربائیجان، 14 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): آذربائیجان میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندیوں کے خلاف احتجاج مختلف اسکولوں تک پھیل گیا ہے، جہاں طالبات نے حجاب کی وجہ سے کلاس رومز میں داخلے سے روکی جانے والی اپنی ساتھی طالبات سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق دارالحکومت باکو سمیت کئی علاقوں میں مظاہروں اور کلاسوں کے بائیکاٹ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں اسکول نمبر 322، اسکول نمبر 69 اور مسالی و جلیل آباد کے علاقے شامل ہیں۔ بعض علاقوں میں والدین نے پابندیوں کے خلاف احتجاجاً اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ تنازع کا آغاز 21 ستمبر کو منظور ہونے والی کابینہ کی قرارداد نمبر 309 کے بعد ہوا، جس کے تحت اسکول یونیفارم کے ضوابط سے متصادم اضافی لباس پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اگرچہ قرارداد میں واضح طور پر حجاب کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اطلاعات کے مطابق بعض اسکولوں نے ان قواعد کی تشریح اس انداز میں کی ہے کہ طالبات کو سر ڈھانپنے کی اجازت نہیں، جس کے باعث مذہبی آزادی اور تعلیم تک رسائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ لباس کے ضوابط کا مقصد آذربائیجان کے سیکولر تعلیمی نظام کے تحت اسکولوں میں یکساں یونیفارم کو یقینی بنانا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی لباس پر پابندی طالبات کی مذہبی آزادی اور تعلیم کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ آذربائیجان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 12 اکتوبر تک تعلیمی اداروں میں ان ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق واقعات کے سلسلے میں 37 افراد کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔ حکام نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد نے اسکول عملے سے جھگڑا کیا، املاک کو نقصان پہنچایا اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جبکہ ان واقعات کے سلسلے میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ احتجاج کا دائرہ آذربائیجان سے باہر بھی پھیل گیا ہے، جہاں ترکیہ کے شہر استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر مظاہرین نے احتجاج کیا، جس سے یہ معاملہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے، تاہم ملک کا آئین اسے ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔