
اسلام آباد، 7 نومبر 2026 (کامران راجہ): امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان مسلسل دعوؤں کے باوجود سامنے آئی ہے جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی فوجی حملوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ کے تحت ایران کے جوہری ڈھانچے، تنصیبات، آلات اور اس پروگرام سے وابستہ افراد، بالخصوص سائنسی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ انعام کی پیشکش جوہری تنصیبات، آلات اور متعلقہ اہلکاروں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے پر کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے اعلان میں ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایجنسی ایران میں سینٹری فیوجز سمیت اہم جوہری اجزا کی تیاری اور ذخائر کے بارے میں معلومات کا تسلسل برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے آئی اے ای اے کی 2025ء کی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن کے مطابق ایران یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک کر چکا تھا، جو جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی تقریباً 90 فیصد افزودگی کی سطح کے قریب ہے۔ امریکی بیان کے مطابق ایران دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، تاہم وہ یورینیم کی اتنی بلند سطح تک افزودگی کر چکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس یورینیم کو مزید افزودہ کیا جائے تو اس کی مقدار کئی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم واشنگٹن نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی مخصوص معلومات فراہم کرنے پر مکمل 2 کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مؤثر طور پر تباہ کر دیا ہے۔ فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا ایران پر حملے نہ کرتا تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، کیونکہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی صورت میں ایران پورے مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ آٹھ ماہ کی جنگ کے دوران ایران کی معیشت اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب تہران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ایران کسی معاہدے کے لیے بے حد بے تاب ہے۔ ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقائی ثالث جنگ بندی برقرار رکھنے اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی رواں ہفتے کہا تھا کہ ان کی حکومت بحران کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تلاش کرنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کو ایران میں ایک یا دو باقی اہداف سے بھی نمٹنا ہے، جن میں ملک کے وسطی علاقے میں واقع مشتبہ مقام ’’پک ایکس ماؤنٹین‘‘ بھی شامل ہے۔ اس مقام کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسے جوہری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ایران اس کی جوہری تنصیب ہونے کی تردید کرتا ہے۔