Tuesday, November 3

یوکرین مذاکرات کا اگلا دور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مشروط ہے، کریملن کے معاون کا بیان

Next Round of Ukraine Talks Depends on Middle East Situation, Kremlin Aide Says

اسلام آباد، 29 اکتوبر 2026 (غفران): کریملن کے خارجہ پالیسی کے معاون یوری اوشاکوف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات کے اگلے دور کا وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر عوامل سے منسلک ہے، جس سے آئندہ ماہ مذاکرات کے انعقاد کے امکانات غیر یقینی ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بدھ کو امید ظاہر کی تھی کہ اجلاس 6 سے 10 نومبر کے درمیان ابوظہبی میں ہوگا۔ تاہم، یوری اوشاکوف نے کہا کہ ماسکو نے تاحال مذاکرات کے لیے کوئی مخصوص تاریخ تجویز نہیں کی۔ ان کے مطابق میدان جنگ کی صورتحال اور مجموعی علاقائی حالات، بالخصوص ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ، مستقبل قریب میں مذاکرات کے انعقاد میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے اگلے دور میں یورپی نمائندوں کی شرکت کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی، جبکہ فی الحال روس، یوکرین اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان سہ فریقی مشاورت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہے۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں یورپ بھی کردار ادا کرے گا۔ اوشاکوف نے اس سے قبل کہا تھا کہ یورپ کو مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا مؤقف اہم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز مزید بتایا کہ روسی صدر پیوٹن کی منگل کو فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مذاکرات میں یورپی ممالک کی ممکنہ شرکت پر تبادلہ خیال نہیں ہوا۔