
رام اللہ، 02 نومبر 2026 (نوشین): مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایک اسکول پر آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی طلبہ اور اساتذہ دم گھٹنے سے متاثر ہوئے، جبکہ اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مختلف علاقوں میں حملوں اور سڑکوں کی ناکہ بندی کا سلسلہ تیز کر دیا۔ مقامی حکام کے مطابق واقعہ رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المغیر میں پیش آیا، جہاں طبی ٹیموں نے متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جبکہ سول ڈیفنس کے عملے نے کلاس رومز سے آنسو گیس کے اثرات ختم کیے۔ دوسری جانب اسرائیلی آبادکاروں نے حارس اور کفل حارس قصبوں کے قریب اور وادی قانا کے راستے پر سڑکیں بند کر دیں، ٹائر جلائے اور سڑکوں پر پتھر رکھ کر ٹریفک اور الزیتونہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک رسائی متاثر کی۔ ایک اور واقعے میں آبادکاروں نے شمالی وادی اردن کے علاقے سلہب سے مبینہ طور پر تقریباً 90 بکریاں چوری کر لیں۔ فلسطینی کمیشن برائے نوآبادیات اور دیوارِ مزاحمت کے مطابق اکتوبر کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک ہزار 369 حملے کیے، جو ستمبر کے مقابلے میں 111.6 فیصد زیادہ ہیں۔ کمیشن نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مجموعی طور پر 3 ہزار 133 حملے کیے، جن میں 52.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک ہزار 764 واقعات کی ذمہ دار اسرائیلی فورسز تھیں۔ ادھر نابلس، رام اللہ اور الخلیل میں چھ فلسطینیوں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا، جن میں صحافی سامر خویرہ بھی شامل ہیں، جنہیں ان کے گھر پر چھاپے کے بعد دوبارہ حراست میں لیا گیا۔ فلسطینی اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مغربی کنارے میں ایک ہزار 220 سے زائد فلسطینی جاں بحق، تقریباً 13 ہزار 350 زخمی اور 26 ہزار سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں مسلسل شدت آ رہی ہے۔