Tuesday, November 3

ایران کی تہران میں سکیورٹی مذاکرات کا خیرمقدم، علاقائی امن اور مکالمے کی جانب اہم پیش رفت قرار

Iran Welcomes Tehran Security Talks as Step Toward Regional Dialogue and Peace

اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026(نوشین): ایران نے تہران میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی حکام کے اجلاس کو علاقائی مکالمے اور امن کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ممالک کو بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پیر کو ہونے والے اجلاس نے مذاکرات اور علاقائی امن کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا، تاہم انہوں نے ملاقات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران خلیجی عرب ممالک پر متعدد حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ اس کے اہداف خطے میں امریکی تنصیبات اور مفادات تھے، جبکہ خلیجی ممالک نے تہران پر شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔ دوسری جانب مصر کی وزارت خارجہ کے مطابق مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں علاقائی بحران پر قابو پانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصر نے یمن میں حوثی باغیوں کے حملوں سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی معاونت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ فیصلہ مصر کے اعلیٰ ترین سکیورٹی ادارے نے کیا، جس کی بعد ازاں رواں ہفتے پارلیمان نے بند کمرے میں ہونے والی ووٹنگ کے ذریعے منظوری دی۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فوجی معاونت صرف دفاعی نوعیت کی ہوگی، جبکہ خطے کے ممالک کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔