
سینٹ پیٹرزبرگ، 21 اکتوبر 2026 (غفران): امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر غور کریں، جبکہ واشنگٹن دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے خونریز ترین تنازعے کو ختم کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک عظیم الشان شاہی محل میں ہونے والی ملاقات وٹکوف اور پیوٹن کے درمیان نویں بالمشافہ ملاقات تھی، جس کا آغاز روس کی جانب سے خیرسگالی کے اقدام کے طور پر روس میں زیرِ حراست سابق امریکی اسکول ٹیچر اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی سے ہوا۔ ملاقات کے دوران پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے متعلق معاملات میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ روس کے تہران کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط تعلقات ہیں اور ماسکو ان تعلقات کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی خدشات دور کرنے کے لیے استعمال کرنے کی پیشکش کرتا رہا ہے۔ پیوٹن نے مزید کہا کہ روس امریکی کسانوں کی مدد کے لیے امریکہ کو بڑی مقدار میں کھاد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اگلے ماہ چین میں ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ ملاقات پر بھی بات چیت کی خواہش ظاہر کی، جس میں کریملن کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے اتحادیوں میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ امریکہ یوکرین کی حمایت کم کر رہا ہے، جبکہ روسی حملوں سے متعلق بروقت انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی میں رکاوٹوں اور یوکرین کے فوجی مواصلاتی نظام پر اثرات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ سفارتی رابطہ اس وعدے کے دو سال سے زیادہ عرصے بعد ہوا ہے جب ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یوکرین جنگ 24 گھنٹوں میں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پیوٹن سے گفتگو کرتے ہوئے وٹکوف نے کہا کہ وہ یوکرین، روس اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی ممکنہ بحالی کے حوالے سے تعمیری بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر فوری طور پر کوئی حل نہ بھی نکلے تو اگلے ممکنہ اقدامات پر غور کرنا اہم پیش رفت ہو گی، کیونکہ دنیا مذاکرات کے نتائج کی منتظر ہے۔ امریکہ کی ثالثی میں آخری امن مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے منعقد کیے گئے تھے۔ یوکرین اور روس ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر اب بھی ایک دوسرے سے خاصے دور ہیں، تاہم ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کیف پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز خبردار کیا تھا کہ یوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، بصورتِ دیگر اسے ’’بہت برے نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔