
ریاض، 21 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سعودی عرب کے اچانک دورے پر ریاض پہنچ گئے، جہاں وہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ رواں ماہ حوثی حملوں میں اضافے کے بعد میکرون سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے مغربی رہنما ہیں۔ فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق میکرون کی سعودی ولی عہد اور مملکت کے عملاً حکمران شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور توانائی کی فراہمی سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ حوثی حملوں کے باعث ریاض کے ہوائی اڈے پر سرگرمیاں متاثر ہونے اور ایک بڑی سرمایہ کاری کانفرنس ملتوی کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں نے سعودی تیل کی برآمدات کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ میکرون کا یہ دورہ خلیجی ممالک کے وسیع تر دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد تیل اور ڈیزل کی فراہمی کو یقینی بنانا، توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا اور فرانس میں بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ دورہ فرانس میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف ہونے والے حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد ہو رہا ہے، جنہوں نے فرانسیسی حکومت پر عوامی مسائل کے حل کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اپنے خلیجی دورے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے میکرون نے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور گیس کی قیمتوں سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گھبراہٹ کا کوئی تاثر نہیں ملنا چاہیے اور وہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب حوثی حملوں سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مغربی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔