
اسلام آباد، 21 اکتوبر 2026 (نوشین): پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 130 ملین ڈالر سے بڑھا کر آئندہ دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اور ان کا تبادلہ کیا ہے۔ یہ معاہدے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران طے پائے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ مفاہمتی یادداشتوں میں دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، صحت، تعلیم، تجارت، زراعت، سیاحت اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ باضابطہ استقبالیہ تقریب میں مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پاکستان اور مالدیپ کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ پاک فوج کے ایک چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ صدر معیزو نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے وفود کا تعارف کرایا اور ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔ مالدیپ کے صدر منگل کے روز پاکستان پہنچے تھے اور ان کے ہمراہ خاتونِ اول ساجدہ محمد، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔ دورے کے دوران صدر معیزو نے وزیراعظم ہاؤس کے لان میں پودا بھی لگایا، جو دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور دوستی کی علامت ہے۔ یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 11 سال بعد مالدیپ کے کسی صدر کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 1966 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ صدر معیزو اپنے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے، جو ان کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ دیں گے۔ توقع ہے کہ ان معاہدوں سے دوطرفہ تعاون کو نئی تقویت ملے گی، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور پاکستان اور مالدیپ کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔