
لاس اینجلس، یکم اکتوبر 2026 (نوشین): امریکی اداکار اور اقوام متحدہ کے ہیومن سینٹرک ڈیجیٹل گورننس کے عالمی نمائندے جوزف گورڈن لیویٹ نے کہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’’اداکارہ‘‘ ٹلی نارووڈ کو حقیقی اداکار نہیں سمجھتے اور اسے محض ’’ایک سافٹ ویئر‘‘ قرار دیا ہے جسے اداکارہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ انسٹاگرام پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں جوزف گورڈن لیویٹ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح تخلیقی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ اے آئی نظام انسانی تخلیق کردہ مواد کو دوبارہ ترتیب دے کر نئے نتائج تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کوئی انسان نہیں اور ایک پرفارمنس پیش کرنے کے لیے ایک حقیقی شخص کا ہونا ضروری ہے۔ ٹلی نارووڈ کا موازنہ کارٹون کردار ڈونلڈ ڈک سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ڈک مختلف لکھاریوں، فنکاروں، اینیمیٹرز اور وائس ایکٹرز کی مشترکہ تخلیق ہے اور ان تمام افراد کو اس کی تخلیق کا کریڈٹ دیا جاتا ہے، اسی طرح ٹلی نارووڈ بھی انسانوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کردہ ایک مصنوعہ ہے۔ ٹلی نارووڈ کی خالق ایلین وین ڈیر ویلڈن اس سے قبل اسے فن پارہ قرار دے چکی ہیں، نہ کہ فنکار، جبکہ ان کے اس ابتدائی بیان پر بھی تنقید ہوئی تھی کہ وہ ٹلی کو اسکارلٹ جوہانسن یا نیٹالی پورٹمین کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتی ہیں۔ حال ہی میں ٹلی نارووڈ نے سی این این پر اے آئی سے متعلق ایک آڈیشن میں بھی شرکت کی، جہاں رپورٹ کے مطابق اس کے ایک منظر کی تیاری کے لیے ٹیم کو کئی گھنٹے کام کرنا پڑا۔ ٹلی نارووڈ ابھی تک کسی ریلیز ہونے والی فلم میں کاسٹ نہیں ہوئی، تاہم وہ آنے والی کامیڈی ڈرامہ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی ہے، جسے روایتی فلم سازوں اور اے آئی ماہرین کے اشتراک پر مبنی ہائبرڈ پروڈکشن قرار دیا گیا ہے۔ ہالی ووڈ میں جنریٹو اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اداکاروں اور لکھاریوں کے درمیان روزگار، معاوضے اور تخلیقی حقوق سے متعلق خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ 2023 میں رائٹرز گلڈ آف امریکا نے ہڑتال کی تھی، جس کے اہم معاملات میں تخلیقی شعبے پر اے آئی کے ممکنہ اثرات اور تخلیقی مواد کو اے آئی کی تربیت کے لیے غیر مجاز استعمال سے تحفظ بھی شامل تھا۔