
اسلام آباد، 27 ستمبر، 2026 (نوشین): پاکستان نے نورستان میں مبینہ تشدد سے متعلق افغان طالبان حکومت کی جانب سے اسلام آباد کو جوڑنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، من گھڑت اور حقیقت سے عاری قرار دیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے نورستان یا افغانستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو دوٹوک طور پر مسترد کرتا ہے، جن میں سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کرنے کے دعوے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کے ثبوت میں شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق سمیت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیاں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کو تشدد سے جوڑنے کی کوششیں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کی حقیقت کو نہیں چھپا سکتیں۔ وزارت نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابل اعتماد اور قابل تصدیق اقدامات کرے اور اس عزم کو پورا کرے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے الزامات طالبان حکومت کی جانب سے اپنے داخلی سلامتی کے مسائل اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں سے متعلق صورتحال پر ہونے والی تنقید کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔