
نیویارک، 23 ستمبر 2026 (کامران راجہ): ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ میں کمی لائے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو وہ سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران چاہتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی ذرائع سے تنازع حل کرنے کی خواہش کا باضابطہ اعلان کرے اور مذاکرات کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل اور مدت پر اتفاق کیا جائے۔ عہدیدار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ایرانی وفد کو امریکہ کے ساتھ سفارت کاری بحال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع نہیں۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے سے متعلق معاہدے کی تفصیلات نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے زیرِ بحث لائی جا سکتی ہیں، جبکہ تہران کی تجویز 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی جا چکی ہے۔ عہدیدار نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو امریکہ کے لیے سفارت کاری کی جانب واپسی کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ٹھوس اقدامات کیے جانے کی صورت میں ایران مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کرے گا۔