
قاہرہ/غزہ، 15 ستمبر 2026 (کامران راجہ): اسرائیلی فضائی حملوں میں شمالی غزہ کی شیخ رضوان کالونی میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جاں بحق جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ حملہ منگل کے روز کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے علاقے میں ایک جنگجو کو نشانہ بنایا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کچھ ہلاکتیں اور زخمی اس وقت ہوئے جب امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے افراد کے قریب ایک دوسرے حملے میں دھماکا ہوا۔ رائٹرز فوری طور پر اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا جس میں کم از کم پانچ افراد کے قریب ایک میزائل پھٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے احمد البطش اور رافت زمار کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ حماس کے ذرائع اور اسرائیلی فوج کے مطابق احمد البطش حماس کے مقامی کمانڈر تھے، جبکہ طبی ذرائع نے بتایا کہ وہ شمالی غزہ میں اپنی گاڑی پر حملے کے دوران جاں بحق ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے الگ الگ بیانات میں دونوں افراد کو ہلاک کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے رافت زمار کو بھی حماس کا کمانڈر قرار دیا، تاہم حماس نے فوری طور پر زمار کی تنظیم سے وابستگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ احمد البطش کے اہل خانہ اور دوستوں نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال میں انہیں سفید کفن اور حماس کے سبز پرچم میں لپٹے جسد خاکی کے ساتھ الوداع کیا، جبکہ ان کے جسد پر ایم 16 رائفل بھی رکھی گئی۔ مقتول حماس جنگجو کے رشتہ دار خلیل البطش نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں مزاحمت کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتیں بلکہ اس طرح کی ہلاکتیں فلسطینیوں کے عزم کو مزید مضبوط کریں گی۔ اکتوبر 2025 میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی نے غزہ میں بڑے پیمانے کی لڑائی تو روک دی تھی، تاہم اسرائیلی حملے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور مستقل امن کی جانب پیش رفت بھی محدود رہی ہے۔ حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع ختم کرنے کے وسیع تر منصوبے پر عملدرآمد کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے، جس میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی حماس کی جانب سے کی جارہی ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 1300 سے زائد فلسطینی، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس دوران اس کے چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔