
اسلام آباد، 30 اگست 2026 (غفران): حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری ریکارڈ ان دعوؤں کی تائید نہیں کرتا کہ عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا یا انہیں طبی سہولیات سے محروم کیا گیا۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ہفتہ کو جاری بیان میں عمران خان کو تعزیری طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے، بدسلوکی اور بنیادی سہولیات سے محرومی کے الزامات کو ’’جھوٹا پروپیگنڈا‘‘ قرار دیا گیا۔ وزارت کے مطابق عمران خان مجاز عدالتوں سے سزا پانے کے بعد اپنی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق سابق وزیراعظم کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کے مواد، ٹیلی وژن، گھر کے پکے کھانے اور ورزش کے آلات تک رسائی حاصل ہے۔ انہیں سات کمروں پر مشتمل ایک علیحدہ احاطے میں رکھا گیا ہے جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ وزارت نے عمران خان کو اہل خانہ سے رابطے سے محروم رکھنے کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق تقریباً 198 ملاقاتوں کے دوران 900 سے زائد افراد نے ان سے ملاقات کی، جن میں ان کی بہنیں، رشتہ دار، وکلا، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندگان شامل ہیں۔ بیان کے مطابق عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی حاصل رہی، جبکہ آخری ملاقات 4 اگست کو ریکارڈ کی گئی۔ جیل ریکارڈ میں پاکستان اور بیرون ملک اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں، جن میں 21 مارچ کو ان کے ایک بیٹے سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے۔ ان کی بہنوں سے 18، 19 اور 25 اگست کو ملاقاتیں بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔
حکومت نے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کے الزامات بھی مسترد کر دیے۔ وزارت کے مطابق جیل میں قید کے دوران عمران خان کے تقریباً 30 طبی معائنے کیے جا چکے ہیں، جن میں پی آئی ایم ایس، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین اور میڈیکل بورڈز نے حصہ لیا، جبکہ جیل کے ڈاکٹر کی جانب سے معمول کے طبی معائنے بھی جاری رہے۔ وزارت کے مطابق عمران خان کو آنکھ کی پردۂ بصارت سے متعلق بیماری کے لیے ماہرین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا گیا، جس میں پانچ اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، ریٹینل امیجنگ، ادویات اور فالو اَپ معائنے شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ جولائی اور 21 اگست کو کیے گئے طبی جائزوں میں انہیں ’’مکمل ہوش و حواس میں اور مستحکم‘‘ قرار دیا گیا اور کسی شدید یا بے قابو طبی بگاڑ کی نشاندہی نہیں ہوئی۔بیان میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی نیازی سے منسوب بیان کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر انہوں نے عمران خان کو ’’100 فیصد فٹ‘‘ قرار دیا، ان کا بلڈ پریشر 120/80 بتایا اور کہا کہ ان کی آنکھ کی حالت تقریباً مکمل طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ وزارت نے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا گیا اور ان کی بہن طبی معائنے کے دوران موجود تھیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے خاندان، پی ٹی آئی اور وکلا کو ہدایت کر رکھی ہے کہ متعلقہ عدالتی کارروائی زیرِ التوا رہنے تک ان کی طبی حالت یا میڈیکل رپورٹس کو میڈیا کے سامنے ظاہر یا شیئر نہ کیا جائے۔ حکومت نے کہا کہ عمران خان کی صحت کا جائزہ سیاسی دعوؤں کے بجائے طبی ریکارڈ اور عدالتی احکامات کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ وزارت کے مطابق جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی تقاضوں کے تحت ملاقاتوں اور رابطوں کو منظم کرنے کو رسائی سے محرومی کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آ کر ان سے ملاقات نہ کر سکنے سے متعلق رپورٹس پر وزارت نے کہا کہ دونوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قومی شناختی کارڈز (نائیکوپ) موجود ہیں، جنہیں پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویزات قرار دیا گیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ تصدیق شدہ جیل اور طبی ریکارڈز اور سیاسی طور پر متنازع دعوؤں میں فرق ملحوظ رکھیں اور سابق وزیراعظم کی جیل میں حالت سے متعلق رپورٹنگ کو دستاویزی شواہد اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر یقینی بنائیں۔