Friday, August 21

ٹاپ آرڈر بیٹرز کو جارحانہ انداز اپنانا ہوگا، گل فیروزہ اور شوال ذوالفقار

 

Top-Order Batters Must Play Aggressively, Say Gul Feroza and Shawaal Zulfiqar

لاہور، 21 اگست 2026 (نوشین): پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں گل فیروزہ اور شوال ذوالفقار نے ٹاپ آرڈر کی جانب سے جارحانہ بیٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید کرکٹ تیز ہو چکی ہے اور ٹیم بھی اسی کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کا آئندہ ویمنز ایشیا کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں لاہور میں تربیتی کیمپ جاری ہے۔ کیمپ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گل فیروزہ اور شوال ذوالفقار نے کہا کہ ٹیم اپنی تیاری اور میچ کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مختلف سینیریو بیسڈ میچز کھیل رہی ہے، جن میں مرد کھلاڑیوں کے خلاف میچز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیریو بیسڈ میچز صرف نیٹ پریکٹس کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں کیونکہ نیٹس میں بیٹنگ کے دوران کھلاڑیوں کو فیلڈ کی صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں ہو پاتا، جبکہ میچ پریکٹس سے کھیل کے مختلف پہلوؤں اور حالات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ گل فیروزہ نے کہا کہ ان کی انفرادی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے، تاہم ٹیم کو مجموعی کارکردگی میں مزید تسلسل پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں ٹیم توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جو مایوس کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ویمنز ایشیا کپ اور ایشین گیمز جیسے اہم ایونٹس سامنے ہیں اور ٹیم کا مقصد دونوں مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ دوسری جانب شوال ذوالفقار نے کہا کہ انجریز کے بعد ٹیم میں واپسی آسان نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل انجریز کے باعث وہ ٹیم سے باہر رہی تھیں، تاہم واپسی کے بعد اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے انہوں نے سخت محنت کی۔ شوال ذوالفقار نے انجری کے دور کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کھلاڑیوں کے لیے ذہنی طور پر مضبوط اور صبر کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے مرد کھلاڑیوں کے ساتھ میچز کھیلنے کے فوائد بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے ٹیم کو مضبوط اور زیادہ مسابقتی کرکٹ کھیلنے کی تیاری میں مدد مل رہی ہے۔ شوال ذوالفقار نے مزید کہا کہ کپتان فاطمہ ثناء کی قیادت میں ٹیم کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فاطمہ ثناء نے حال ہی میں دی ہنڈریڈ میں شرکت کی اور اپنے تجربات ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر رہی ہیں، جو دیگر کھلاڑیوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہو رہا ہے۔