
اسلام آباد، 20 اگست 2026 (کامران راجہ): قومی اسمبلی نے جمعرات کو وفاقی کابینہ کی جانب سے مجوزہ قانون سازی کی منظوری کے چند گھنٹے بعد ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ دونوں بل ایوان زیریں میں پیش کیے گئے اور اپوزیشن کے واک آؤٹ کے دوران اکثریتی ووٹوں سے منظور کرلیے گئے۔ یہ قانون سازی پاکستان کے دفاع سے متعلق قانونی نظام میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، خصوصاً اس لیے کہ حکومت نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کو 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی جانے والی قانونی تبدیلیوں سے منسلک کیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی تھی۔ حکومت کے مطابق ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد درکار قانونی اقدامات کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ کابینہ سے منظوری کے بعد مجوزہ قانون سازی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، جہاں دونوں اقدامات کو اکثریتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔تاہم اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا۔نیشنل کمانڈ اتھارٹی پاکستان کے اسٹریٹجک کمانڈ نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ ملک کی دفاعی افواج سے متعلق قانون سازی کے اہم ادارہ جاتی اور قومی سلامتی کے مضمرات ہیں۔