Friday, August 14

نادرا کا مقامی طور پر تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی قومی شناختی کارڈ متعارف

اسلام آباد، 14 اگست 2026 (غفران): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے درآمدی مائیکرو چپس پر انحصار کم کرنے اور ڈیجیٹل شناخت کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے محفوظ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا چِپ لیس قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے۔نادرا کے مطابق نیا پولی کاربونیٹ کارڈ پاکستان میں نیشنل سکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (این ایس پی سی)، کراچی نے نادرا کی تکنیکی اور سکیورٹی ضروریات کے مطابق مقامی طور پر تیار کیا ہے۔نئے کارڈ میں درآمدی مائیکرو چپ کی جگہ محفوظ کیو آر کوڈ استعمال کیا گیا ہے، جسے اسمارٹ فون کے ذریعے پاک آئیڈینٹیٹی (PakID) موبائل ایپلیکیشن کی مدد سے اسکین اور تصدیق کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کا مقصد ڈیجیٹل شناخت کی تصدیق کو مزید آسان، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔نادرا کے مطابق کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی بنیادی شناختی معلومات اور تصویر شامل ہوگی، جس کے ذریعے مجاز ادارے کم سے کم دستی اندراج کے ساتھ شہریوں کا بائیوگرافیکل ڈیٹا حاصل کرسکیں گے اور ڈیٹا انٹری کی غلطیوں میں کمی آئے گی۔نئے شناختی کارڈ میں خصوصی افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء عطیہ کرنے والوں اور آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے لیے مخصوص علامات اور اشاریے بھی شامل کیے گئے ہیں، جبکہ روایتی فیملی نمبر بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

کارڈ ہولڈرز کے نام اور پتے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج کیے جائیں گے تاکہ سرکاری امور میں دو لسانی شناخت برقرار رہے۔ کارڈ میں جدید سکیورٹی تقاضوں اور مقامی پیداواری صلاحیتوں کے مطابق ظاہری اور خفیہ سکیورٹی فیچرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔وفاقی حکومت نے نئے شناختی کارڈ کے اجرا کی باضابطہ منظوری 23 فروری 2026 کو دی تھی۔نادرا نے تقریباً 14 سال قبل چِپ پر مبنی اسمارٹ قومی شناختی کارڈ متعارف کرایا تھا، تاہم فزیکل چِپ ریڈرز اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث اس کا وسیع پیمانے پر استعمال محدود رہا۔نیا کیو آر کوڈ پر مبنی نظام ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت عام اسمارٹ فونز اور کیمرا رکھنے والے آلات کے ذریعے شناختی کارڈ کی تصدیق ممکن ہوگی۔نادرا مجاز اداروں، جن میں ٹیلی کام آپریٹرز، بینک، اسپتال، پاکستان ریلوے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہیں، کو خصوصی تصدیقی سافٹ ویئر فراہم کرے گا، جس کے ذریعے شناختی کارڈز کو فوری طور پر اسکین اور تصدیق کیا جاسکے گا۔نئے شناختی کارڈز کا اجرا ملک بھر میں مرحلہ وار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 14 اگست 2026 سے نیا پولی کاربونیٹ کیو آر کوڈ کارڈ ان عام چِپ لیس ٹیسلن میٹریل شناختی کارڈز کی جگہ لے گا جو اس وقت جاری کیے جارہے ہیں۔جنوری 2027 سے کیو آر کوڈ کا نظام دیگر شناختی کارڈ کیٹیگریز، بشمول نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز  اور جووینائل کارڈز تک توسیع دیا جائے گا۔منتقلی کے آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ کو بھی نئے چِپ لیس کیو آر کوڈ پلیٹ فارم پر منتقل کردیا جائے گا۔نادرا نے واضح کیا ہے کہ پہلے سے جاری کیے گئے تمام شناختی کارڈز اپنی مقررہ میعاد ختم ہونے تک مکمل طور پر قابلِ استعمال اور مؤثر رہیں گے۔