Friday, August 14

کولمبیا میں زلزلے کے ملبے کے قریب خاموشی کی اپیل، زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری

کیلی، کولمبیا، 14 اگست 2026 (نوشین): کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں نے جمعرات کو ملبے کے قریب خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی تاکہ ملبے تلے دبے ممکنہ زندہ افراد کی آوازیں سنی جا سکیں۔ ریسکیو ٹیمیں وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی امید کے باوجود مزید زندہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیر کو جنوبی امریکی ملک میں آنے والے 7.4 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق 348 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے جمعرات کی شب پریس کانفرنس میں کہا کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں کامیابی کے امکانات بتدریج کم ہو رہے ہیں، تاہم لاپتا افراد کی تلاش مکمل ہونے تک امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ امدادی اداروں کے مطابق زلزلے کے بعد ابتدائی دو سے تین دن زندہ افراد کو ملبے سے نکالنے کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، تاہم اگر ملبے تلے پھنسے افراد کو پانی اور خوراک دستیاب ہو تو وہ اس سے زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ ریسکیو رضاکار ڈائیانا روخاس نے بتایا کہ انہیں ملبے تلے دو مزید افراد کے زندہ ہونے کا امکان ہے اور صبح ڈھائی بجے سے آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے امید برقرار ہے۔

روخاس نے بتایا کہ زلزلے میں وہ اور ان کے اہل خانہ محفوظ رہے، تاہم انہوں نے کیلی سمیت شدید متاثرہ شہروں میں امدادی کارروائیوں میں رضاکارانہ طور پر حصہ لینا شروع کردیا۔ ان کے مطابق انہوں نے دو افراد کو ملبے سے زندہ نکالتے ہوئے دیکھا جبکہ متعدد لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ریسکیو اہلکار خاموشی کی اپیل کرتے ہیں تو تمام افراد ساکت ہو جاتے ہیں اور بات یا سرگوشی تک نہیں کرتے، تاہم ملبے سے زندگی کے آثار ملنے پر تمام امدادی ٹیمیں خوشی سے تالیاں بجاتی ہیں۔کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریئیلا کی حکومت کو بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر کے مطابق تقریباً 400 افراد تاحال لاپتا ہیں، تاہم شہریوں کی جانب سے تیار کردہ ڈیٹا بیس میں لاپتا افراد کی تعداد 4,200 سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق 3,900 سے زائد افراد زخمی ہوئے، تقریباً 10,600 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 65,800 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ مجموعی طور پر 44,900 سے زائد خاندان زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ریسکیو آپریشن ایک مشکل مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور بعض ٹیمیں اب زندہ افراد کی تلاش کے ساتھ لاشیں نکالنے پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہیں، تاہم صدر نے کہا کہ انسانی جانیں بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔