
نیویارک، 14 اگست 2026 (کامران راجہ): متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل اینڈ گیس کمپنی اے ڈی این او سی کے زیرِ انتظام دو آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس پر متحدہ عرب امارات نے ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حملوں کو بحری قزاقی قرار دیا ہے۔یہ حملے جمعرات کی شام اس وقت ہوئے جب دونوں ٹینکرز خلیج فارس کو کھلے سمندروں سے ملانے والی انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔ اے ڈی این او سی کے مطابق حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور صورتحال پر قابو پالیا گیا۔برطانوی فوج کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہاز ڈرون حملوں میں معمولی نقصان کا شکار ہوئے۔ مرکز نے جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم فراہم کردہ تفصیلات اسی واقعے سے مطابقت رکھتی ہیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایران پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے جہاز رانی کی آزادی کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ابوظہبی نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا خطے کے استحکام اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔دریں اثنا، مقبوضہ مغربی کنارے میں کارکنوں نے فلسطینیوں کے لیے خوراک اور پانی پہنچانے کے لیے مارچ کیا، جو کئی روز سے اسرائیلی آبادکاروں کے محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔
قصرا نامی قصبے میں تین فلسطینی خاندان تقریباً ایک ہفتے سے اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکے کیونکہ اسرائیلی آبادکاروں نے علاقے کو گھیر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کئی مرتبہ مداخلت کی، تاہم آبادکار دوبارہ واپس آتے رہے۔قصرا کی صورتحال مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ مغربی کنارہ 1967 کی مشرقِ وسطیٰ جنگ کے دوران اسرائیل کے قبضے میں آیا تھا اور فلسطینی اسے مستقبل کی آزاد ریاست کا حصہ قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ شہری معاملات سے متعلق قانون کے نفاذ کی ذمہ داری پولیس کو منتقل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جائے۔عراق میں نیم خودمختار کرد خطے کے شہر اربیل کے اوپر ایک ڈرون کو روک لیا گیا۔ ڈرون کو شہر کے ایسے علاقے میں روکا گیا جہاں متعدد ہوٹلز اور غیر ملکی قونصل خانے واقع ہیں۔ علاقائی انسدادِ دہشت گردی سروس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ڈرون کس نے لانچ کیا تھا۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران اور ایران نواز عراقی عسکری گروپ عراق میں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایرانی کرد مخالف گروہوں کے اڈوں کو بھی متعدد حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور اہم مذاکرات کار جیرڈ کشنر آئندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار کے مطابق، جو ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان نازک جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کیا ہے، جیرڈ کشنر، بورڈ کے ہائی نمائندے نکولے ملادینوف اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اتوار کو اسرائیل پہنچیں گے۔یہ وفد بعد ازاں قاہرہ جائے گا، جہاں امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے اجلاس جاری ہیں۔مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تجارتی جہازوں پر حملوں، ڈرون واقعات اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ خطے میں وسیع تر تنازع کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں۔