Saturday, August 8

نیب نے 36 برسوں میں 16,093 ارب روپے کی ریکوریاں کیں، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد،7 اگست 2026 (نوشین): قومی احتساب بیورو (نیب) نے 1991 سے جون 2026 تک مجموعی طور پر 16,093 ارب روپے کی ریکوریاں کیں۔ یہ بات جمعہ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں نیب حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نیب کے سینئر حکام نے گزشتہ 36 برسوں کے دوران ادارے کی مجموعی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ نیب کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق ادارے نے اس عرصے کے دوران 505,799 شکایات کا جائزہ لیا، 7,339 تحقیقات مکمل کیں، 121,147 انکوائریاں کیں جبکہ 4,105 ریفرنسز دائر کیے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں کے دوران نیب کو مجموعی طور پر تقریباً 22.5 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔ نیب کے چیئرمین نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود ادارہ ریکوریوں کے حوالے سے ملک کا نمایاں احتسابی ادارہ رہا ہے۔ بریفنگ کے دوران نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے بتایا کہ 2022 سے 2024 کے دوران مختلف اداروں کے درمیان مقدمات کی بڑے پیمانے پر منتقلی ہوئی، جس کے باعث دائرۂ اختیار کے تعین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 500 ملین روپے سے کم مالیت کی مبینہ خرد برد کے مقدمات نیب کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جھوٹی شکایات درج کرانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے احتسابی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے جعلی شکایات درج کرانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

نیب کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر ادارے کو چار ماہ کا مینڈیٹ دیا جائے تو ملک کو درپیش تیل اور بجلی کے شعبوں کے بڑے مسائل کا مؤثر حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک کو درپیش توانائی سے متعلق مسائل کے قابلِ عمل حل موجود ہیں اور انہیں چار ماہ کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے تیار کیا جانے والا کوئی بھی منصوبہ زمینی حقائق اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے گا۔ بریفنگ میں نیب کی کارکردگی، ادارہ جاتی چیلنجز اور احتسابی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ قومی اقتصادی مسائل کے حل کے لیے مربوط اقدامات سے متعلق تجاویز پر بھی روشنی ڈالی گئی۔