Saturday, August 8

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا

مکہ مکرمہ، 07 اگست 2026 (کامران راجہ): خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی دعوت پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مملکت سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مکہ المکرمہ میں منعقدہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس مکہ مکرمہ کے الصفا پیلس میں منعقد ہوا، جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے دونوں رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔ ملاقات کے دوران رہنماؤں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا جائزہ لیا، جبکہ علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اسلامی یکجہتی، تزویراتی شراکت داری اور علاقائی استحکام کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ تاریخی معاہدہ تینوں ممالک کے اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے، دفاعی تعاون کو تمام شعبوں میں فروغ دیں گے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مل کر کام کریں گے۔ معاہدے کے مطابق اگر تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع اور مؤثر بازدار قوت کو مزید تقویت ملے گی۔ معاہدے میں دفاع، عسکری رابطہ کاری، انٹیلی جنس کے تبادلے، تربیت اور باہمی تزویراتی اہمیت کے دیگر شعبوں میں تعاون کو بھی وسعت دینے کی شقیں شامل ہیں۔ تینوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور خطے میں پائیدار امن، مضبوط سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔