Friday, August 14

بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کی ساتویں برسی پر پاکستان کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مسئلہ جموں و کشمیر پر مؤثر کارروائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ، 5 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا ایک خط اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی مستقل مندوب سفیر کرسٹینا مارکس لاسن کے حوالے کیا، جو اگست کے مہینے کے لیے سلامتی کونسل کی صدر بھی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی تھا۔ اس اقدام کا مقصد جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنا تھا۔

نائب وزیراعظم نے خط میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت مسلسل ڈومیسائل قوانین، اراضی کی ملکیت کے ضوابط، انتخابی نظام اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ذریعے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر  کی آبادیاتی، سیاسی اور ثقافتی شناخت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خط کے مطابق اب تک تقریباً 34 لاکھ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس غیر مقامی افراد کو جاری کیے جا چکے ہیں۔ خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں من مانی گرفتاریاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد، اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادی پر پابندیاں، نیز پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون جیسے سخت قوانین کے مسلسل نفاذ کا ذکر کیا گیا ہے۔ خط میں ممتاز کشمیری رہنماؤں شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت صحافیوں، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی مسلسل گرفتاریوں اور مبینہ ہراسانی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیری عوام کی نمائندگی کرنے والی 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی خط میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جن میں سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں بار بار اجتماعی نمازوں پر پابندیاں، مذہبی اداروں کی سخت نگرانی، مدارس کی بندش اور ضابطہ بندی، 215 کمیونٹی کے زیر انتظام اسکولوں کا سرکاری کنٹرول میں لیا جانا، اور وقف (ترمیمی) ایکٹ کے نفاذ سے پیدا ہونے والے خدشات شامل ہیں۔ نائب وزیراعظم نے خبردار کیا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا جارحانہ رویہ، اشتعال انگیز بیانات، مقبوضہ کشمیر میں مبینہ طور پر 7 سے 9 لاکھ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کو خطرات سے دوچار کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے بھارت سے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات واپس لینے، مقبوضہ علاقے کی حیثیت اور آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی تمام کوششیں روکنے، کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا احترام کرنے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے بامعنی مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرے۔ نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے گڈ آفسز کو بروئے کار لاتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ حل طلب تنازع آج بھی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔