Friday, July 31

ایران نے امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں تعاون کرنے والے ممالک کو نتائج سے خبردار کر دیا، بلغاریہ سے فضائی اڈے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

 

جولائی31 ، 2026(غفران ): ایران نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ جو ممالک اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات کو امریکہ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیں گے، انہیں اس کے  نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران نے بلغاریہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیزمر ایئر بیس پر امریکی فوجی طیاروں کی عارضی تعیناتی کی اجازت دینے کا فیصلہ واپس لے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بلغاریہ کی وزیر خارجہ ویلیسلاوا پیٹرووا چامووا سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران تہران کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ بلغاریہ کی جانب سے بیزمر ایئر بیس پر امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی کی منظوری دینا، جو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کے لیے دی گئی ہے، ایران کے خلاف جارحیت میں سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران اور بلغاریہ کے درمیان روایتی دوستانہ تعلقات کے منافی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران پہلے بھی ایسے ممالک کو خبردار کر چکا ہے جو اپنی سرزمین یا فوجی اڈے امریکہ کی ایران مخالف کارروائیوں کے لیے فراہم کرتے ہیں۔

ایک علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو میں عباس عراقچی نے قبرص کے وزیر خارجہ کانسٹینٹینوس کومبوس پر زور دیا کہ قبرص میں موجود غیر ملکی فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ گزشتہ ہفتے بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے ایران کے اعتراضات کے باوجود بیزمر ایئر بیس پر آٹھ امریکی KC-135 فضائی ایندھن بردار طیاروں اور 250 تک امریکی فوجی اہلکاروں کی عارضی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔بلغاریہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد دفاعی نوعیت کا ہے، اڈے پر کسی قسم کے جارحانہ ہتھیار تعینات نہیں کیے جائیں گے اور اس اقدام سے بلغاریہ کسی فوجی کارروائی کا فریق نہیں بنے گا۔دوسری جانب قبرص میں برطانیہ کے دو خودمختار فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں آر اے ایف اکروتیری بھی شامل ہے، جسے رواں سال مارچ کے آغاز میں ایران کے ایک ڈرون نے مبینہ طور پر نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے چند روز بعد پیش آیا۔

تنازع کے آغاز پر برطانیہ نے امریکہ کو ایرانی میزائل لانچرز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے اپنی بعض فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم بعد میں لندن نے واضح کیا کہ آر اے ایف اکروتیری کو اس دفاعی انتظام کے تحت استعمال نہیں کیا جائے گا۔جولائی میں برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھنے کا اعلان کیا، جس کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو خبردار کیا کہ وہ امریکہ کی ایران مخالف فوجی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی معاونت سے گریز کرے۔ ایران کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس کے اس مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ اپنی سلامتی کے خلاف سمجھے جانے والے کسی بھی غیر ملکی فوجی تعاون کو قبول نہیں کرے گا۔