
اقوامِ متحدہ، 27 جولائی 2026(نوشین):پاکستان نے یوکرین میں جاری تنازع کے مسلسل شدت اختیار کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے نہ صرف ناقابلِ قبول انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جس کے سب سے زیادہ منفی اثرات ترقی پذیر ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری بنیادی ڈھانچے اور انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کو پہنچنے والے نقصان کی شدید مذمت کی اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔
مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور دیرپا امن صرف سنجیدہ، مسلسل اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کے سترہ ماہ بعد بھی تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد 2774 پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ سفارت کاری اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصول، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پرامن حل ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔