
اسلام آباد، 1 مئی 2026:(کامران راجہ):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور جنوبی کوریا کے وزیر تجارت ییو ہان-کو کے درمیان ورچوئل ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ اور سیپا (CEPA) پر مشاورت کے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران کورین وزیر تجارت نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امن کوششیں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے امریکہ–ایران تنازع میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
کورین وزیر تجارت نے کہا کہ متعدد کورین کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں اور پاکستان کو ایک محفوظ اور پُرکشش سرمایہ کاری کی منزل سمجھتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے سیپا مذاکرات کو تیز کرنے اور مقررہ مدت میں معاہدہ مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جام کمال خان نے زراعت، ٹیکسٹائل، معدنیات اور اسپورٹس گڈز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا اور افریقہ کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کورین کمپنیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ملاقات میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور اسے فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
سیکرٹری تجارت جواد پال نے متوازن ٹیرف پالیسی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔
دونوں ممالک نے پاکستان اور جنوبی کوریا کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔