لاہور، 11 اگست 2026 (غفران): پاکستان کے قیام کے وقت 1947 میں ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو ماہانہ تنخواہ نہیں دی جاتی تھی بلکہ اسمبلی کے اجلاس کے دنوں میں 21 روپے یومیہ الاؤنس دیا جاتا تھا۔ سفری الاؤنس شامل کرنے کے بعد یہ رقم 45 روپے یومیہ بنتی تھی۔تقریباً آٹھ دہائیوں بعد قومی اسمبلی کے رکن کی بنیادی ماہانہ تنخواہ 6 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس کے علاوہ ارکانِ پارلیمنٹ کو مختلف الاؤنسز، سفری سہولیات اور دیگر مراعات بھی حاصل ہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں یہ اضافہ ایسے معاشی پس منظر میں ہوا ہے جو ابتدائی دور سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ پاکستان کے وفاقی بجٹ اکثر بڑے مالی خساروں کے ساتھ پیش کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق 2024-25 میں کھپت پر مبنی غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی، دیہی علاقوں میں یہ شرح 36.2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17.4 فیصد رہی۔پارلیمانی معاوضوں میں اضافے کا یہ سفر تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہے، جس میں ملک کے ابتدائی برسوں میں معمولی یومیہ ادائیگیوں سے لے کر موجودہ دور کے ایسے معاوضہ جاتی نظام تک کا سفر شامل ہے جس میں بزنس کلاس سفری سہولت، سالانہ سفری واؤچرز، دفتری اور ٹیلی فون الاؤنسز، طبی سہولیات، پارلیمانی اجلاسوں اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کی ادائیگیاں اور دیگر مراعات شامل ہیں۔
