
صنعاء، 5 ستمبر 2026 (نوشین): یمن میں حوثی باغیوں نے حکومتی فورسز کے خلاف بڑا حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ملک میں کئی سال کی بدترین جھڑپیں شروع ہوگئیں اور تقریباً 130 افراد ہلاک ہوگئے۔ لڑائی جمعرات کو اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے ساحلی علاقوں کے قریب زمینی حملوں کے ساتھ راکٹ اور ڈرون حملے بھی کیے، جس کا مقصد اہم باب المندب آبنائے پر اپنے کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ فوجی اور طبی ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 129 تک پہنچ گئی، جن میں حکومتی فورسز سے وابستہ 66 اہلکار اور کم از کم 62 حوثی جنگجو شامل ہیں۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور تعز کے قریب حکومتی علاقوں پر نظر رکھنے والی بلند مقامات پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جس سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ وہ ان اہم مقامات سے بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ حوثیوں کا مقصد حکومتی کنٹرول میں موجود بندرگاہی شہر المخا کو منقطع کرنا اور باب المندب سے متصل علاقوں کی جانب پیش قدمی کرنا بھی ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری امریکا ایران تنازع کے باعث حالات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یمن میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ حوثی بحیرہ احمر اور اہم بحری راستوں پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تازہ صورتحال نے خطے کے امن و سلامتی اور دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک کی حفاظت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔