
اسلام آباد 15 مارچ 2026(کامران راجہ):اسلام آباد او آئ سی کامسٹیک اور اور ہواوے ٹکنالوجیز پاکستان کے درمیان او آئی سی رکن ممالک میں ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت مشترکہ معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی اکیڈمی قائم کی جائے گی۔
اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر بدھ کے روز کامسٹیک سیکرٹریٹ اسلام آباد میں دستخط کیے گئے، جبکہ اسی موقع پر جدید سہولیات سے آراستہ ایک تربیتی مرکز کا بھی افتتاح کیا گیا۔ یہ مرکز جدید ڈیجیٹل نظام سے لیس ہے، جہاں آن لائن تدریس، عملی تربیت اور مختلف ممالک کے طلبہ و ماہرین کے درمیان فوری رابطہ اور اشتراک ممکن بنایا گیا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان تھے، جنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی ممالک کو ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز اور مواقع کے تناظر میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاتا ہے اور انہی کی بنیاد پر پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اور او آئی سی سطح پر مختلف حکمت عملیوں کے تحت کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ماضی میں فائبر نظام کے لیے بھاری اخراجات درکار تھے جبکہ پاکستان نے اس حوالے سے دیگر ممالک کے مقابلے میں مختلف طریقہ کار اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا جائزہ لے کر اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ان کا حل نکالا گیا۔
اس موقع پر کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ او آئی سی خطے میں ڈیجیٹل خود کفالت کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا، جس سے سائنسی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہواوے ٹیکنالوجیز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایتھا سںن نے کہا کہ ان کا ادارہ نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور یہ شراکت داری اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان دنیا میں آزادانہ خدمات فراہم کرنے والوں کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور او آئی سی ممالک کو مشترکہ طور پر اپنی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی مواصلاتی تحفظ کے شعبے میں پاکستان دیگر ممالک کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنقیدی سوچ کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے تاکہ درست فیصلے کیے جا سکیں۔
اس شراکت داری کے تحت قائم ہونے والی اکیڈمی میں نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی، جس سے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
تقریب میں مختلف ممالک کے سفراء نے شرکت کی جن میں ملائشیاء، صومالیہ، موریشسس، آزربائجان، مراکش، الجزائر، برونائ دارالسلام، شامل تھے
تقریب کے اختتام پر شرکاء کو نئے قائم شدہ تربیتی مرکز کا دورہ کرایا گیا، جہاں جدید تعلیمی نظام اور تربیتی طریقہ کار کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔
03048178283