Thursday, April 3

پاکستان کی ڈی آر سی (DRC) پر اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت، تنازع کے پرامن حل پر زور

*The Permanent Mission of Pakistan to the United Nations* *(Information Section)* ***** *Press Release* *Pakistan Supports UN Resolution on DRC, Calls for Peaceful Resolution of the Conflict* *United Nations, February 21, 2025:* Pakistan has stated that the adoption of the resolution by consensus on DRC reaffirms Security Council’s strong commitment to the sovereignty, independence, unity and territorial integrity of the Democratic Republic of Congo, and upholds the UN Charter principles. Explaining why Pakistan voted in favor of the resolution, Ambassador Asim Iftikhar Ahmad, Alternate Permanent Representative to the U.N., said that more importantly, the resolution welcomes and supports the regional efforts and processes, and high-level engagements led by the African Union and other sub-regional organizations to bring peace to the DRC. He said Pakistan expects and calls on all parties to cooperate and fully comply with the provisions of this resolution and their respective obligations in a genuine and timely manner. Ambassador Asim Iftikhar said that for several weeks now the situation in the Eastern DRC has going down the dangerous downward spiral, with dire humanitarian consequences. He said that the developing situation has served a blow to the efforts for peace and stability in the Democratic Republic of the Congo. He said that the United Nations and the Security Council itself, including through the peacekeeping mission, invested heavily for the success of this endeavor, arguing that failure was not an option. Ambassador Asim said that the Council was right to keep a close watch over the developments as manifested by a series of meetings in recent weeks. “It was also logical for this Council to pronounce itself quickly and clearly to fulfill its responsibility to help restore peace and security in the Eastern DRC,” he added. He said that Pakistan considers the resolution as an important and necessary step towards that objective. Pakistan’s Alternate UN envoy said that all parties should recognize that there is no military solution to the conflict, and argued that they must, therefore, prioritize dialogue and diplomacy and recommit to the peace and mediation processes. He asked the Security Council to continue to accord the attention that the situation demands, and also review the role and mandate of MONUSCO to better correspond to the situation on ground. The Pakistan Times

اقوام متحدہ، 21 فروری2025  (نوشین) : پاکستان نے کہا ہے کہ ڈی آر سی (جمہوریہ کانگو) پر اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرارداد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے پختہ عزم کی توثیق کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو برقرار رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر، یہ قرارداد افریقی یونین اور دیگر ذیلی علاقائی تنظیموں کی قیادت میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی علاقائی کوششوں اور اعلیٰ سطحی اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے اور ان کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین سے توقع رکھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس قرارداد کی شقوں اور اپنی متعلقہ ذمہ داریوں پر حقیقی اور بروقت عمل درآمد کریں۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ کئی ہفتوں سے مشرقی ڈی آر سی کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے، جس کے تباہ کن انسانی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے جمہوریہ کانگو میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور خود سلامتی کونسل، بشمول قیام امن مشن، اس مقصد کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں، لہٰذا ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل نے حالیہ ہفتوں میں منعقدہ متعدد اجلاسوں کے ذریعے مشرقی ڈی آر سی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہے، جو ایک درست حکمت عملی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “یہ بھی منطقی تھا کہ سلامتی کونسل فوری اور واضح موقف اختیار کرے تاکہ مشرقی ڈی آر سی میں امن و امان کی بحالی کی اپنی ذمہ داری کو پورا کیا جا سکے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس قرارداد کو ایک اہم اور ضروری اقدام سمجھتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مندوب نے کہا کہ تمام فریقین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، لہٰذا انہیں مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے اور امن و ثالثی کے عمل سے دوبارہ وابستگی اختیار کرنی چاہیے۔

انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کو درکار توجہ دینا جاری رکھے اور ساتھ ہی MONUSCO کے کردار اور مینڈیٹ کا بھی جائزہ لے تاکہ اسے زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔