اقوام متحدہ، 21 فروری2025 (نوشین) : پاکستان نے کہا ہے کہ ڈی آر سی (جمہوریہ کانگو) پر اتفاق رائے سے منظور کی گئی قرارداد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور جغرافیائی سالمیت کے پختہ عزم کی توثیق کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کو برقرار رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر، یہ قرارداد افریقی یونین اور دیگر ذیلی علاقائی تنظیموں کی قیادت میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی علاقائی کوششوں اور اعلیٰ سطحی اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے اور ان کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین سے توقع رکھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس قرارداد کی شقوں اور اپنی متعلقہ ذمہ داریوں پر حقیقی اور بروقت عمل درآمد کریں۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ کئی ہفتوں سے مشرقی ڈی آر سی کی صورتحال خطرناک حد تک بگڑتی جا رہی ہے، جس کے تباہ کن انسانی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال نے جمہوریہ کانگو میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور خود سلامتی کونسل، بشمول قیام امن مشن، اس مقصد کے حصول کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر چکے ہیں، لہٰذا ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ سلامتی کونسل نے حالیہ ہفتوں میں منعقدہ متعدد اجلاسوں کے ذریعے مشرقی ڈی آر سی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہے، جو ایک درست حکمت عملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “یہ بھی منطقی تھا کہ سلامتی کونسل فوری اور واضح موقف اختیار کرے تاکہ مشرقی ڈی آر سی میں امن و امان کی بحالی کی اپنی ذمہ داری کو پورا کیا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس قرارداد کو ایک اہم اور ضروری اقدام سمجھتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے متبادل مندوب نے کہا کہ تمام فریقین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، لہٰذا انہیں مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے اور امن و ثالثی کے عمل سے دوبارہ وابستگی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کو درکار توجہ دینا جاری رکھے اور ساتھ ہی MONUSCO کے کردار اور مینڈیٹ کا بھی جائزہ لے تاکہ اسے زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔