
بشکیک، 1 ستمبر 2026 (غفران): نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان جون 2026 میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مخلصانہ عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ بات منگل کے روز بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے زور دیا کہ امریکا اور ایران کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مخلصانہ عملدرآمد جاری تنازع کے خاتمے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات اور سفارتی روابط کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی اہم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔دریں اثنا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں جانب سے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قریبی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ممالک نے باہمی روابط کو مزید فروغ دینے اور پاکستان و ازبکستان کے باہمی مفاد میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔