Wednesday, August 5

پاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات پر اتفاق، سالانہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

اسلام آباد، 5 اگست 2026 (کامران راجہ): پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تجارتی کمیٹی (جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی) کا دسواں اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا، جس میں دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ سالانہ تجارتی حجم کو 10 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے مؤثر اقدامات پر اتفاق کیا۔ اجلاس کے اختتامی سیشن کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں وزراء نے دو روزہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے اتفاقِ رائے کی عکاسی کرنے والی متفقہ کارروائی پر دستخط کیے۔ اجلاس میں مجوزہ پاکستان۔ایران آزاد تجارتی معاہدے (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا، جس میں قواعدِ مبدأ، محصولات میں کمی کے طریقہ کار اور مصنوعات کی فہرستوں سے متعلق امور شامل تھے۔

فریقین نے بارٹر ٹریڈ کے فروغ، کاروباری برادریوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے، صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری میں اضافے، نجی شعبے کی مؤثر شمولیت اور مشترکہ سرحدی تجارتی منڈیوں کو فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی سہولت کاری، کسٹمز تعاون، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور سرحدی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا تاکہ بالخصوص جلد خراب ہونے والی اشیاء سمیت تجارتی سامان کی نقل و حمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ طے پانے والے اقدامات پاکستان اور ایران کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے .ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کے مزید فروغ کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل طے شدہ فیصلوں پر بروقت عملدرآمد اور مسلسل رابطہ دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود کے درمیان یادگاری تحائف کا تبادلہ کیا گیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔