Thursday, September 17

ٹرمپ کی نئی پالیسی؛ روسی تیل خریدنے پر بھارت کو 100 فیصد امریکی ٹیرف کا سامنا

Trump’s new policy: India faces potential 100% US tariff over Russian oil purchases

واشنگٹن، 17 ستمبر 2026 (کامران راجہ): امریکی ایوان نمائندگان نے روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت اور چین سمیت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہ قانون 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس کا مقصد روس کی توانائی اور دفاعی آمدنی کو محدود کرنا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں ماسکو پر مالی دباؤ بڑھانا ہے۔ قانون کے تحت روسی توانائی خریدنے والے ممالک کی مصنوعات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار صدر کے پاس ہوگا، تاہم حتمی ٹیرف کی شرح، کن مصنوعات کو نشانہ بنایا جائے گا اور اس کا نفاذ کب ہوگا، اس کا فیصلہ بعد میں امریکی انتظامیہ کرے گی۔ قانون میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، اعلیٰ روسی حکام اور نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ سے منسلک بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ امریکی قومی مفاد کی بنیاد پر بعض حالات میں صدر کو استثنا دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ قانون کی منظوری سے آگاہ ہے اور مزید پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ بھارت اپنے 1.4 ارب شہریوں کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔ مغربی پابندیوں کے بعد فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں بھارت رعایتی روسی خام تیل کا بڑا خریدار بن گیا، اور رپورٹس کے مطابق مالی سال 2026 میں روسی خام تیل بھارت کی مجموعی تیل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد تھا۔ بھارتی ریفائنرز نے سپلائی کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے امریکا، برازیل، کینیڈا، وینزویلا اور افریقی ممالک سے بھی خریداری بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ اگر امریکا بلند ٹیرف نافذ کرتا ہے تو بھارتی برآمد کنندگان کو امریکی مارکیٹ میں بڑھتی لاگت اور مسابقت میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ روسی تیل کی خریداری میں نمایاں کمی سے بھارت کو متبادل ذرائع سے زیادہ قیمت پر خام تیل خریدنا پڑ سکتا ہے۔ روس نے بھی مجوزہ امریکی اقدامات پر تنقید کی ہے، جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے خبردار کیا ہے کہ نئی پابندیاں یوکرین میں امن معاہدے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ نئی قانون سازی امریکا کی جانب سے روسی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر بھی معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔