
واشنگٹن، 17 ستمبر 2026 (نوشین): امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری تعاون کے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے روکنے کے لیے قرارداد پیش کردی ہے۔ ٹرمپ نے اگست میں مجوزہ معاہدہ کانگریس کو بھیجا تھا، جس کے بعد قانون سازوں کے پاس اس کا جائزہ لینے کے لیے 90 روز کی مدت ہے۔ ڈیموکریٹس اور جوہری عدم پھیلاؤ کے حامیوں نے معاہدے میں سعودی عرب کو یورینیم افزودہ کرنے یا جوہری فضلے کی دوبارہ پراسیسنگ سے واضح طور پر روکنے کی شرط شامل نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ڈیموکریٹ ارکان گریگوری میکس، بریڈ شرمین، جان گارامینڈی اور ڈان بیئر نے کہا کہ پہلے ہی تنازعات اور کشیدگی سے متاثرہ خطے کو ایک اور جوہری طاقت کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت ضروری جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ معاہدہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر لانے سے منسلک ہے یا نہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا، تاہم کانگریسی معاونین کے مطابق معاہدے میں اس معاملے کا براہ راست ذکر نہیں۔ ارکان کانگریس نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل معاہدہ، بشمول خفیہ ضمنی دستاویزات، منظرعام پر لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ 30 سالہ معاہدے میں اے پی 1000 جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں، جس کی مالیت دسیوں ارب ڈالر ہوسکتی ہے۔ ایوان میں قرارداد پر ووٹنگ کی تاریخ تاحال واضح نہیں، جبکہ اسپیکر مائیک جانسن نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک ارکان کو گھر بھیج دیا ہے۔ 1954 کے اٹامک انرجی ایکٹ کی دفعہ 123 کے تحت پرامن جوہری تعاون کے معاہدے 90 روز بعد خودکار طور پر نافذ ہوجاتے ہیں، تاہم کانگریس انہیں روکنے کے لیے قرارداد عدم منظوری منظور کرسکتی ہے۔