
اسلام آباد، 5 ستمبر 2026 (غفران): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام عوام کی خواہشات اور رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جبکہ موجودہ نظام میں بہتری کے لیے ’’سسٹم ری سیٹ‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے نظام کے ’’مکمل طور پر ناکام ہونے‘‘ سے متعلق اپنے سابقہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ری سیٹ کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ غلطیوں کو درست کرنا ہے۔‘‘ وفاقی وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ اگر کوئی ادارہ یا کمپنی مؤثر طریقے سے کام نہ کر رہی ہو تو اسے ختم کرنے کے بجائے اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غور و خوض کیا جاتا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت اس وقت ہی ممکن ہوگی جب اسے پاکستان کے عوام کی حمایت اور تائید حاصل ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے فیصلوں میں عوامی رائے کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔وزیر داخلہ کے یہ ریمارکس ملک میں طرز حکمرانی اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑے انتظامی یا ساختی اقدامات عوام کی خواہشات اور رضامندی کے عکاس ہونے چاہئیں۔