
اسلام آباد، 17 اگست 2026 (کامران راجہ) – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی 10 اگست کی میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی، جس میں ان کی صحت کی صورتحال اور طبی معائنے کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان میں اضطراب کی سطح تھری پلس ریکارڈ کی گئی، جبکہ ان کا بلڈ پریشر 140/80 اور نبض کی رفتار 54 دھڑکن فی منٹ تھی۔ ان کا ای سی جی نارمل تھا، تاہم ایکو کارڈیوگرام میں ای ٹو اے ریورسل کی معمولی تبدیلی سامنے آئی۔ماہرین امراض چشم، امراض قلب اور طب پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے اضطراب پر قابو پانے کے لیے عمران خان کو روزانہ ایک گھنٹہ واک کرنے اور ذہنی سکون کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تجویز دی۔ بورڈ نے انہیں رسائل، اخبارات، ٹیلی ویژن اور مطالعاتی کتب فراہم کرنے کی بھی سفارش کی، جبکہ اہل خانہ اور اہلیہ کے ساتھ ملاقاتوں کا دورانیہ بڑھانے کی تجویز دی تاکہ اضطراب اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے۔ ضرورت پڑنے پر مزید امراض قلب کے ٹیسٹ اور معمول کے طبی معائنے کی بھی سفارش کی گئی۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے عمران خان کی صحت، طبی نگرانی اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق ان کے کھانے اور مشروبات کی جانچ کی جاتی ہے جبکہ دن میں تین مرتبہ صحت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ان کے متعدد طبی معائنوں اور ماہر امراض چشم سے جاری علاج کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا۔ عمران خان کے طبی معائنے اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دستاویزات ان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے جاری کارروائی کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی ہیں۔