
اسلام آباد، 30 اگست 2026 (غفران): وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور روحانی ورثے میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ خصوصی ثقافتی کنسرٹ ’’ازبکستان، پاکستان: دوستی اور بھائی چارے کی دھنیں‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدیوں سے شاعری، موسیقی، فنون اور خیالات اس خطے میں سفر کرتے رہے ہیں، جس سے دونوں اقوام ایک دوسرے کے مزید قریب آئی ہیں۔ یہ ثقافتی پروگرام ازبکستان کے سفارتخانے کی جانب سے ملک کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں سفارت کاروں، اعلیٰ حکام اور مختلف ممالک کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اورنگزیب خان کچھی نے ازبکستان کی حکومت اور عوام کو آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تقریب کا موضوع ’’دوستی اور بھائی چارے کی دھنیں‘‘ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا، ’’موسیقی کو ترجمے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ براہِ راست دلوں سے بات کرتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے درمیان کتنی مشترک اقدار موجود ہیں۔‘‘ انہوں نے ازبک فنکاروں کا خیرمقدم کیا جو ازبکستان کی ثقافت اور موسیقی کی روایات کی خوبصورتی پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے پاکستان آئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنی ثقافتی شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے اور امید ظاہر کی کہ ورثے، عجائب گھروں، ادب، موسیقی، پرفارمنگ آرٹس، روایتی دستکاری اور نمائشوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے نوجوان فنکاروں، لکھاریوں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات، سیکھنے اور مشترکہ طور پر کام کرنے کے مواقع حاصل کرسکیں۔ وفاقی وزیر نے ثقافتی شام کے انعقاد اور پاکستان و ازبکستان کے عوام کو مزید قریب لانے میں کردار ادا کرنے پر ازبکستان کے سفارتخانے اور سفیر علی شیر تختائیف کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف نے کنسرٹ کو ’’ازبکستان کے عوام کی جانب سے پاکستان کے دوست عوام کے لیے ثقافتی تحفہ‘‘ قرار دیا، جو دونوں برادر ممالک کے درمیان گہری دوستی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے شاہراہِ ریشم کے ذریعے دونوں معاشروں کے درمیان صدیوں پرانے روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی راستے نے علم، ادب، سائنس، موسیقی اور فنون کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا-ثقافتی شام نے پاکستان اور ازبکستان کے مشترکہ ورثے اور دیرینہ دوستی کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں ثقافتی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔