
قصرا، 29 اگست 2026 (نوشین): مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے قصرا میں ہفتے کے روز درجنوں نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی گھروں پر حملہ کیا، جو رواں ماہ کے آغاز میں آبادکاروں کی جانب سے علاقے میں کیے گئے محاصرے کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق آبادکاروں نے ایک فلسطینی گھر کو گھیر لیا اور اس پر پتھراؤ کیا، جبکہ گھر کے اندر سات فلسطینی افراد پھنسے ہوئے تھے۔ گھر میں موجود ایک شخص صدام عودی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے گھر کے اندر آنسو گیس پھینکی اور وہاں موجود افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ اسے جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے کسی بھی آبادکار کو حراست میں نہیں لیا اور انہیں علاقے سے جانے دیا۔ گھر کے مالک لوائے بیروڈی نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے گھر کے اندر موجود افراد کو ہتھکڑیاں لگائیں، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فوجی اور سرحدی پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تاکہ اس کے مطابق ’’فسادیوں‘‘ کو وہاں سے ہٹایا جا سکے اور گھر کے اندر موجود رہائشیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ فوج نے فوری طور پر ان الزامات پر تبصرہ نہیں کیا کہ گھر میں آنسو گیس استعمال کی گئی اور رہائشیوں کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بیروڈی نے بتایا کہ آبادکاروں کے پتھراؤ کے بعد وہ اور دیگر چھ افراد ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک گھر کے اندر پھنسے رہے۔ انہوں نے اپنے بازو پر بندھی پٹی دکھاتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران پتھر لگنے سے وہ زخمی ہوئے۔ طبی امداد سے وابستہ صدام عودی کے مطابق آنسو گیس کے باعث گھر میں موجود چار افراد زخمی ہوئے جبکہ دو افراد کو آبادکاروں کی جانب سے کیے گئے پتھراؤ سے چوٹیں آئیں۔ یہ حملہ ان تین فلسطینی گھروں سے کچھ فاصلے پر پیش آیا جنہیں رواں ماہ آبادکاروں نے محاصرے میں لے لیا تھا۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور علاقے میں اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تھی۔ ان تین گھروں میں سے ایک کے مالک فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی نے بتایا کہ انہوں نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے مطابق علاقے میں اسرائیلی فوج کی بھاری موجودگی کے باوجود آبادکار تقریباً روزانہ وہاں داخل ہوتے ہیں۔حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قصرا جیسے فلسطینی دیہات کے اطراف آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسرائیلی حکومت نے علاقے میں یہودی بستیوں کی توسیع بھی جاری رکھی ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ مزید کشیدگی روکنے اور علاقے میں امن و امان بحال کرنے کے لیے قصرا اور پڑوسی علاقے جالود میں کارروائیاں جاری رکھے گی۔اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی تصور کرتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مغربی کنارے کو متنازع علاقہ قرار دیتا ہے۔