
اسلام آباد، 4 اکتوبر 2026 (غفران): اسلام آباد کی جانب تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کے آخری مرحلے میں سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق طے شدہ یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری تفصیلی بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تحریری سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر سیکیورٹی و انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے متعلق عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر رضامند ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گرد گروہوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائی یا محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی روک تھام اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان، تحریک طالبان افغانستان سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کی واضح مذمت شامل تھی۔ محسن نقوی کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت افغان مہاجرین سے متعلق وفاقی پالیسی کی حمایت، مہاجر کیمپوں کی بندش اور واپسی کے عمل پر بھی رضامند ہوئی تھی، جبکہ افغان طالبان حکومت سے براہِ راست رابطے کے بجائے متعلقہ امور وفاقی حکومت کے ذریعے نمٹانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ مجوزہ معاہدے میں صوبائی پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مناسب فنڈز، قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اہم اقدامات اور مسلح افواج کے ساتھ بہتر تعاون بھی شامل تھا۔ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت ان یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹ گئی اور زور دیا کہ صوبے میں جنگ جیسی صورتحال کے دوران سیکیورٹی معاملات کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ یہ بیان وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار کے بعد سامنے آیا ہے جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ مذاکرات میں زیر حراست پی ٹی آئی بانی عمران خان تک رسائی، ان کے ذاتی ڈاکٹر سے ملاقات اور خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں فوجی کارروائیوں سے متعلق تحفظات سمیت کئی معاملات پر اتفاق نہ ہوسکا جہاں اندرونی طور پر بے گھر افراد موجود ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق دونوں فریق بنیادی معاملات پر اتفاق نہیں کرسکے، جبکہ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ مسودے میں کئی بار ترامیم کی گئیں تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ اتوار کو دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا، جس میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے عوام شریک ہوں گے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی ایک بار پھر لانگ مارچ کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے ہیں، جبکہ محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔