
دوحہ، 7 نومبر 2026 (کامران راجہ): قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خطے کی صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا جا سکے اور فریقین کسی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ ہفتے کے روز اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے باوجود امریکی انتظامیہ سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے آمادہ ہے اور تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے میں واشنگٹن کی دلچسپی برقرار ہے۔ قطری وزیراعظم کے مطابق مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ کوئی قابلِ عمل سمجھوتا طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مثالی معاہدے کا انتظار کرنے کے بجائے ایک اچھے اور قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ہفتے کے روز ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے بتایا کہ قشم جزیرے پر دو میزائل گرے ہیں، تاہم ممکنہ نقصان کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ امریکا نے تاحال ایران کے اندر کسی ہدف پر حملے کا اعلان نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ ان کی انتظامیہ تہران کے نمائندوں سے رابطے میں ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت اچھی پیش رفت کر رہی ہے۔ خطے کے ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، کیونکہ ٹرمپ نے انتخابات سے قبل کئی ہفتوں تک ایران پر حملوں سے گریز کیا تھا۔ ایران متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ اس پر کسی نئے حملے کی صورت میں وہ پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ ایران ستمبر سے سات روزہ منصوبہ بھی پیش کر رہا ہے، جس کے تحت واشنگٹن سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایران کی حمایت یافتہ راہداری کی منظوری دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولا جا سکے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک اس تجویز کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی پروگرام ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی سہولت دی جائے گی۔ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات رکھنے والے افراد انعام کے لیے معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔