
نئی دہلی، 10 ستمبر 2026 (کامران راجہ): چینی صدر شی جن پنگ کا اس ہفتے بھارت کا دورہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں بہتری کا باعث بننے کی توقع ہے، تاہم کاروباری روابط بدستور بداعتمادی اور مختلف رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ شی جن پنگ سات سال بعد بھارت کا دورہ کر رہے ہیں اور نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ممکنہ ملاقات دونوں ممالک کے مستقبل کے دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔ 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم کاروباری شعبے کو سرمایہ کاری کی پابندیوں، ویزا میں تاخیر اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارت نے حالیہ عرصے میں چینی سرمایہ کاری سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی اور چند مشترکہ منصوبوں کی منظوری دی ہے، تاہم بڑی چینی کمپنیاں اب بھی بھارت میں سرمایہ کاری کے حوالے سے محتاط ہیں۔